عاصمہ شیرازی کا کالم: سیاسی اُترن کا لنڈا بازار
مارکیٹ میں لنڈے کے روشن خیال، لنڈے کے مفکر، لنڈے کے پروفیسروں جیسی اصطلاحات تو سُنتے آئے ہیں م اب اس میں لنڈے کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بھی شامل ہو چُکے ہیں۔صورتحال یوں ہے کہ کل تک جو طاقت کے مراکز کو اپنی طاقت کا ذریعہ سمجھتے تھے آج جب وہ طاقت دستیاب نہیں تو اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ بیچ رہے ہیں اور جو کل تک پھپھے کُٹنیوں کی طرح ایک صفحے کے طعنے دے رہے تھے آج اُس صفحے کی تحریر بننے کی کوششوں میں
کل تک جو پنڈی سے آنے والی ہواؤں کے چھو جانے پر مُسرت کا اظہار کرتے تھے آج ہواؤں کا رُخ بدل جانے پر پنڈی میں لُو برسنے کی بددعائیں دے رہے ہیں، کبھی مجھے کیوں نکالا تھا اور کبھی مجھے ہی کیوں نکلوایا کا شکوہ سنائی دے رہا ہےہ گِلے بھی اپنی جگہ کہ ’مجھے جتنا ذلیل کیا کسی وزیراعظم کو ایسا نہیں کیا گیا‘ یعنی مجھے ہی کیوں اتنا ذلیل کیا گیا، کی پولی پولی ناراضگی۔۔ کچھ ’نیوٹرل ہونے‘ اور کچھ ’نیوٹرل نہ ہونے‘ کے دعویدار، گویا موضوع سُخن بھی ’وہ‘ اور حاصل سُخن بھی ’وہی۔‘
آسمان بھی ایسے ایسے رنگ بدل رہا ہے کہ کیا کہنے۔۔۔ کل تک میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے والی جماعت آج آزادی صحافت کی سب سے بڑی پرچارکر بننے کی کوشش میں ہے جبکہ خان صاحب کی یادداشت سے نکل چُکا کہ اُن کے دور میں صحافیوں کی زُبان بندی کے لیے کیا کیا حربے استعمال ہوئے۔
کل تک وزیراعظم ہاؤس اور آفس کے فون ٹیپ کرنا پریمیئر ایجنسی کا کارِ منصبی قرار پایا، آج خان صاحب ایجنسیوں کی ریکارڈنگ پر سراپا احتجاج ہیں اور آج جو جشن منا رہے ہیں وہ کل ایجنسیوں پر انگلیاں اُٹھا رہے تھے۔ عقل انگشت بدنداں ہے کہ دُنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔

Comments
Post a Comment